بتاریخ: ۲۶ٴدسمبرٴ۲۰۱۲
حضورِمحترم کو سلام!
خیریت کی امید نہیں بلکہ یقین ہے۔ کیونکہ ربِ کائنات سے جو بھی چیز مانگنی چاہیے یقین سے مانگنی چاھیے۔ خط لکھنے کا مقصد روایت کو جدت دینا نہیں اور زندہ کرنا تو بالکل نہیں بلکہ محرومی کا احساس ہے۔ یہ بات حقیقت ہے کہ خط کے اندر بات تسلی سے کہنے کا موقع مِلتا ہے۔ کوئی بات نہیں کاٹتا بلکہ جب تلک پوری بات پڑھ نہ لے کوئی رائے قائم نہیں کی جاتی۔ ماسوائے اِسکے کہ تحریر ہی ٹکڑے ٹکڑے کر کہ پھینک دی جائے۔
ایک یہی شکایت ہے جو عزیز و اقارب سے ہے۔ ایک روز یہی سوچتے ہوئے جا رہا تھا کہ مسجد کی طرف سے گزر ہوا۔ سوچا بہت دن ہوگئے حال احوال نہیں پوچھے، ذرا خیریت ہی دریافت کرتا چلوں۔ بس ارادہ کیا اور گُھس بیٹھا۔ ابھی چپلیں اُتار ہی رہا تھا کہ ایک شخص آکرہنے لگا،’جماعت تو ہو چکی حضور!‘۔ میں پوچھ بناکہ،’اوہو! اللّہ میاں چلے گئے کیا؟‘۔ مجھے مست باؤلا سمجھ کر اپنے حال پر چھوڑا اور خود چلتا بنا۔ میں نے وضو کیا اور خدا سے مخاطب ہوا،
’اب تجھے کیا سلام کروں، تیری سلامتی تو اوروں کو کہتا پھرتا ہوں۔۔‘ کچھ جواب نہ آیا مگر میں بھی جاری رہا اور بات مکمل کی۔
’کافی دن ہو گئے تیرا خیال نہ آیاتو فکر ہوئی کہ چکر لگا ہی لینا چاہیے، کچھ احوال تو پتہ چلیں۔ خیر میرے روز و شب کے گُزر اوقات سے تُو واقِف ہی ہوگا۔ اپنی سُنا۔ میں تجھے ڈھونڈتا پھر رہا ہوں تیرا تو کہیں اتہ پتہ ہی نہیں۔‘
جواب میں صرف خاموشی، پہل و پہل تو مجھے لگا شاید میں کوئی بے ادبی کر گیا ہوں، جس کی وھہ سے جواب نہ دیا۔ مگر میں حقیر ذات ہمیشہ حقیر ہی سوچوں گا۔ وہ اعلٰی صفت نظر انداز کیوں کر کرے گا۔ میں پھر مخاطب ہوا،
’تو اوروں سے بھی تو مخاطب ہوا ہے، مجھ سے بھی ہو جا۔‘
جواب میں پھر سنّاٹا۔ میں بھانپ گیا کہ یہ خاموشی نظر اندازی کی نہیں بلکہ خفگی کی ہے۔ دِل میں ندامت ہوئی اور پھر کہنے لگا،
’تیری خفگی بجا ہے، بےشک تُو خود حق ہے، تو تیرے کسی عمل کے حق ہونے پر کیسا شُبہ۔ تیری ذات کی قسم! میں تیری عبادت سے دُور تھا مگر تلاش تو تیرے ہی وجود کی تھی۔ تیری ناراضگی جائز ہے، اس لئے نہیں کہ تُو حق ہے بلکہ اس لئے کہ کوئی بار بار بُلائے اور نہ جایا جائے تو اخلاقی پستی عیاں ہوجاتی ہے۔ میں عمل سے بےشک تجھ سے دُور تھا، مگر عقل و علم کی رُو سے تیری حقیقت کی پاداش میں محو تھا۔ اب تُو ہی بتا میں کیا کروں۔ کاہاں جاؤں۔ ماں کہتی ہے اگر گھر میں فلسفہ تو باہر نِکال دُوں گی۔ دیگر کہتے ہیں کہیں دہریا نہ ہوجاؤں۔ میری بات سُنتے نہیں، اپنی آراٗ مسلط کرتے ہیں۔ تیری ناراضگی پر دِل خُون کے آنسو روتا ہے مگر میرے رب یہ بھی تو بتا کونسا سجدہ دُرست ہے؟ تیرا پیغام آئے چودہ صدیاں ہوگئیں مگر اعمالِ صالح کا تعین نہ ہو سکا۔ جب لوگ اپنی خطاؤں کو تسلیم کرنے کے بجائے تیرے خیال سے لبریز دِل سے چھلکتے ایمان سے چُھپانےکی کوشِش کرتے ہیں تو میں تڑپ جاتا ہوں۔ بھلا یہ بھی کوئی دستور ہؤاکہ بغل میں چُھری اور زبان پر رام رام۔
کچھ کو یہ غلط فہمی ہے کہ مسلمان بہت اچھا ہوتا ہے۔ یعنی کوئی اچھا بھی ہے تو وہ صاحبِ ایمان نہیں۔ پھر بھی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ جس نے کلمہ پاک پڑھ لیا وہ جنّت کا مستحق ہے، جنّت واجب ہے اُس پر۔ بھلا خُود ہی بتایہ کیسا دہرا معیار ہے۔ تیرے مطابِق سوال کرو تو ایسے رنگ فق ہو جاتے ہیں جیسے کسی مکروہ چیز کا ذکر کر دیا ہو۔ایسے لال پیلے ہو جاتے ہیں جیسے کسی نا پسندیدہ چیز کا تذکرہ کردیا ہو۔ تیری ذات کو سوالات کے پیرائے سےایسے نکالتے ہیں جیسے کسی جھوٹ کی پردہ پوشی کر رہے ہوں۔ نہ کوئی تجھے سمجھتا ہے نہ تجھے سمجھنے دیتا ہے۔ پہلے بھی کہا ایک بار پھر کہتا ہوں کہ، میرے رب! مجھے بتا تو کونسا سجدہ تیرے دربار میں مقبُول ہے۔ جِسے ادا کروں تو اختلاف کا سبب نہ بنے۔‘
اتنی تقریر کے بعد بھی کچھ جواب نہ آیا، مایوسی سی ہوئی جاتی تھی۔ بالآخر جزباتیات سے لبریز میری ذات صبر کی تقدیس کو پامال کرتے ہوئے پھر شروع ہوئی،
’تیرا دعویٰ ہے کہ تُو شہ رگ سے زیادہ قریب ہے، تو ایسا تو مُمکن نہیں کہ تُو میری بات سُنتا نہ ہو۔ لیکن تیری یہ بے رُخی مجھے عبودیت پر تو نہیں البتہ الحاد کی طرف ضرور راغب کردیگی۔ اسکے علاوہ کوئی رستہ نہیں۔‘
بول تو واقعی کچھ نہیں سکتے تھے مگر دل میں سوچنے کی کس کو قید تھی، پتہ نہیں کیا کیا کچھ سوچتے چلے گئے۔ اچانک دِل میں میں ایک خیال آیا کہ خدا اپنے بندوں سے براہِ راست متکلّم کب ہوتا ہے بلکہ وہ تو دلوں میں خیال ڈالتا ہے۔ ہر کسی کا موسیٰ ہونا بھلا مُمکن ہے کیا؟ بس! ساری رنجشیں دُور ہوگئیں، مشکلیں آسان ہوگئیں۔ خُدا بھلا خود جواب کیوں دیگا بلکہ اپنا خیال دِل میں ڈالے گا۔
عزت مآب! ان ساری باتوں کو صرف الفاظ کی مار نہیں بلکہ یہ تو خیالات کی بوچھاڑ تھی۔ ربِ کائنات کے ساتھ رشتہ فانی الفاظ کا محتاج نہیں۔ ایک بات اور بھی ہے کہ اگر ان خیالات کو لفظوں کا جامہ پہنایا جائے تو یا تو دنیا ہنسے گی، یا لعن طعن کریگی۔ سوچنے والے بھی ہونگے مگر وہ آج کے اس نمائشی مذہب کے تانوں بانوں میں اَس طور جکڑے ہوتے ہیں کہ کھُل کر خیالات کا اظہار نہیں کرسکتے۔ جیسے کہ میں۔ یہ خط لِکھنے کی وجہ بھی یہی ہی کہ کم از کم آپ تحمّل سے میری گُفتگو تو سنیں گے ورنہ یہاں تو یہ معملہ ہے جس طرح گلی میں کرکٹ کھیلنے سے قبل تمام ضوابط طے ہوجاتے ہیں ویسے ہی گُفتگو کے ابتداٗ ہونے سے قبل یہ دِماغ بنا لیا جاتا ہے کہ یہ چیزیں کُفر ہیں اِس طرف تو پھٹکنا بھی نہیں ہے۔ یہی غلطی ہے جو عموماً کر بیٹھتے ہیں۔ یہ جانے بغیر کہ آیا جِسے ہم کُفر سمجھ رہے ہیں وہ کُفر ہے بھی کہ نہیں۔ بغیر بحثے اِن مضمِر حقائق کو کون سمجھے گا؟
جب سے فلسفے سے رِشتہ جوڑا ہے خدا مشکلیں آسان کرتا جا رہا ہے۔ اِس بات کا ایمان دِل میں مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جارہا ہے کہ ایک فلسفی آج کے ایک لاکھ بلکہ ایک کروڑ علمائے دین سے بہتر اور قابِلِ بھروسہ ہے۔ یہ صرف شعر کی حد تک کی بات ہے کہ،’فلسفی کو بحث کے اندر خدا مِلتا نہیں۔‘ مگر یقین مانیے خدا کی ذات سے قریب جتنا فلسفہ کرتا ہے کوئی نہیں کرتا۔ اور یہ ظالم علماٗ فلسفے کو الحاد سے تشبیح دیتے ہیں۔ میں بالعموم سب کی بات کر رہا ہوں، بالخصوص کسی کی نہیں۔ مسلمان کی بدبختی ہی یہی ہے کہ یہاں سوچنے والے کم اور علماٗ زیادہ ہیں۔ ہمارے یہاں جہیز کو لعنت کہا جاتا ہے۔ دُرست بات ہے مگر جہیز کی صرف ایک صورت تصوّر کرلی گئی ہے۔ ایک عالِم کی مانگ ایک عالِمہ ہوتی ہے۔ اِس سے بھیانک جہیز کیا ہوگا۔ عجب طرز ہے دین کو مقفوس کرنے کا۔ بھلا پھر یہ دین کے پھیلانے والے کیسے ہوئے۔ یہ تو مزید پستی کی طرف دھکیلنے والے ہوئے۔
میرا مقصد بُرے خیالات کا اظہار نہیں یا دِل خراب کرنا نہیں بلکہ دِل کا غُبار نِکالنا ہے۔ جتنا نکال سکتا تھا نکال دیا، اب اور تاب باقی نہیں۔ بندہ اجازت چاہتا ہے۔
والسلام
مہدی قاضی